اُڈپی :29؍ مارچ (ایس اؤ نیوز) محکمہ ڈاک (پوسٹل ڈپارٹمنٹ)میں اکاؤنٹ کھولنےکو لےکر غیر سائنٹفک طورپر ہدف دئیے جا رہے ہیں۔ اس طرح ملازمین پرانگریزوں کی طرح ظلم و جور کیا جارہاہے۔ یہاں اب بھی برٹشوں کا راج چل رہاہے۔ پوسٹل جوائنٹ کونسل آف ایکشن اُڈپی شاخ کے صدر پروین جتنا نے ان خیالات کااظہارکیا۔
وہ یہاں مرکزی حکومت کے خلاف جاری دوروزہ احتجاج کی مناسبت سے اُڈپی علاقے کے پوسٹل ملازمین کی قیادت کرتےہوئے اُڈپی کی مین پوسٹ آفیس کے سامنے احتجاجیوں سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے اپنی بات جارہی رکھتےہوئے کہاکہ محکمہ ڈاک کی جانب سے کل 23مطالبات پیش کئے گئےہیں۔ اگر ہمیں یہ سب کچھ حاصل ہونا ہےتو سب سے پہلے حکومت کی طرف سےہورہے پرائیویٹائزم کو روکنا ہوگا۔ مرکزی حکومت 158سالہ تاریخی پوسٹل ڈپارٹمنٹ کی نجی کاری کرنے جارہی ہے۔ ملک میں 1.55لاکھ پوسٹ آفیس ہیں یہی محکمہ سب سے بڑا محکمہ بھی ہے۔ حکومت ان کا بہتر استعمال کرتےہوئے آمدنی کے متعلق سوچے نہ کہ آمدنی نہیں ہونےکی بات نہ کہے۔ اس زمانےمیں بھی سب سے کم قیمت پر بہترین خدمات انجام دی جارہی ہیں تو پھر کیسے آمدنی ہوگی ۔ اسی لئے محکمہ کے اکاؤنٹنگ نظام میں تبدیلی کرنی ہوگی۔ اگر پرائیویٹ کیاجاتاہے تو جو خدمات سرکاری ملازمین دے رہے ہیں وہ میسر نہیں ہونے کی بات کہی۔
احتجاج کے دوران میں اُڈپی پوسٹ آفیس کے پوسٹ مین راگھویندر پربھو نے بہروپئے کی شکل اختیار کرتےہوئے مرکزی حکومت کی عوام پالیسی کےخلاف اپنا سخت اعتراض درج کرایا۔ انہوں نے کہاکہ آج نجی ادارے حملہ کرتےہوئے سرکاری محکمہ جات پر قبضہ جما رہے ہیں۔ گائے کے مکھوٹے میں آنے والے یہ سرمایہ دار ادارے حقیقت میں شیر کی مانند ہوتےہیں۔ یہ کبھی بھی عوام، ملازمین اور گاہکوں کے ہونہیں سکتے ۔ انہیں صرف منافع نظر آتاہے۔ اسی لئے میں نے آج یہ بہروپ کی شکل اختیار کرتےہوئے خانگیانےکے خلاف ہونے کا پیغام دیا ہے۔